بھوپال9اکتوبر ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) اپوزیشن لیڈر اجے سنگھ نے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان سے کہا ہے کہ وہ امت شاہ کے بیٹے جے شاہ کی طرف رتلام ضلع میں قابل نہ ہونے پر بھی ہوا کی توانائی چکی لگانے پر 15 کروڑ کے کئے گئے سرمایہ کاری اور ان کو فراہم کی گئی زمین کے متعلق وضاحت کریں۔ مسٹرسنگھ نے وزیر اعلی چوہان کو لکھے خط میں کہا ہے کہ وہ ریاست اور مفاد عامہ کے تحت بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کے بیٹے کی اسٹاک کمپنی کو رتلام میں پون چکی کیلئے 15کروڑ کی سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں مکمل معلومات دیں. انہوں نے 2.1 میگا واٹ پون چکی لگا یا ہے جس کا خلاصہ ’’ دی وائر ‘‘ کے انکشافات میں ہوا ہے ۔ سنگھ نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جس کمپنی کی ’’ پون ارجا‘‘ ( ہوائی توانائی ) میں کوئی خصوصیت ہی نہیں ہے اسے رتلام کی قیمتی زمین کیوں دے دی گئی ۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا اس کے تحت کیا امیت شاہ کا خوف تسلط ہوگیا ؟ اس پورے معاملہ میں سازش کی بو آ رہی ہے۔ ریاست میں ایک خاص قسم کی بدعنوانی بڑھ رہی ہے۔ ایک نجی کمپنی کی حمایت میں مرکزی وزیر کر رہے ہیں ۔ اس سے ظاہر ہے کہ ہزاروں نوجوان کے مستقبل برباد کر اپنے اپنے بچوں، بھائی بھتیجوں کی کمپنیوں کو کروڑوں کے کام دیا جا رہا ہے ۔ سنگھ نے خط میں لکھا کہ وزیر اعلی ایک طرف ریاست کے نوجوانوں کو صنعت کار بننے انہیں ٹاٹا، امبانی بننے کا خواب دکھاتے ہیں، وہیں دوسری طرف ریاست کے بی جے پی لیڈراور اپنے عزیزواقارب کو کروڑ پتی بنانے کے لئے آئین و ضوابط کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے ۔ سنگھ نے پوچھا کہ ریاست کے نوجوان کاروباری اداروں اور کمپنیوں میں سرمایہ کاری نہیں کر سکتے ہیں امیت شاہ کا بیٹا ہی کیوں ؟ اس کا واضح جواب شیوراج سنگھ کو دینا چاہئے کیونکہ امت شاہ کے بیٹے کی کمپنی کے ٹرن اوور غیر متوقع طور پر بڑھنے پر سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ واضح ہو کہ ایک ویب سائٹ ’’ دی وائر ‘‘ نے امیت شاہ کے بیٹے کے تعلق سے سرمایہ کاری میں غیر متوقع طور پر اضافہ کا سچ ظاہر کرکے بی جے پی سمیت امیت شاہ کی نیند اڑا دی ہے ۔